Irshad ul Mufteen By Mufti Hameedullah Jan ارشاد المفتین


Read Online
Vol 01       Vol 02
Irshad ul Mufteen By Mufti Hameedullah Jan ارشاد المفتین
Download
Link 1
Vol 01 (6MB)  Vol 02 (5MB)

Link 2
Vol 01 (6MB)  Vol 02 (5MB)

Advertisements

Kitab un Nawazil Fatawa Mufti Muhammad Sulaiman Mansoorpuri


Mufti Muhammad Ibraheem

Download 01     Download 02     Download 03   Download 04

Download 05   Download 06   Download 07    Download 08

Download 09   Download 10   Download 11    Download 12

Download 13   Download 14   Download 15    Download 16

Download 17   Download 18   Download 19

fatwa imam-ul-haramin on taqleed


Fatwa Imam ul Haramin OnTaqleed

 

Read Online

Download

AtaUllah Shah Bukhari ka Khutba


Read Onlin

AtaUllah Shah Bukhari ka Khutba_0000

Download

Fatawa Tatar Khaniah


.

Fatawa Tatar khaniah

Download

V.1  V.2  V.3  V.4  V.5

V.6  V.7  V.8  V.9  V.10

V.11  V.12  V.13  V.14  V.15

V.16  V.17  V.18  V.19 V.20

گولڈن کی انٹرنیشنل ، گولڈ مائنز انٹرنیشنل ، ٹائنز، گرئین ورلڈ جیسی کمپنیوں کے فراڈ سے پردہ اٹھاتی تحریر


ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنیوں کا مکروہ جال گولڈن کی انٹرنیشنل ، گولڈ مائنز انٹرنیشنل ، ٹائنز، گرئین ورلڈ جیسی کمپنیوں کے فراڈ سے پردہ اٹھاتی تحریر۔ برہاں بصری جسے پاکستان میں ٹائنز کا باپ کہا جاتا ہے پاکستان کے متوسط طبقے کے لاکھوں کو بیوقوف بنا رہا ہے۔ اگر زیادہ دور نہ جائیں تو یہ وہی برہان بصری ہے جو ہماری بھولی بھالی عوام کو گولڈن کی انٹرنیشنل (ٹائنز جیسی فراڈ کمپنی، جواب بھاگ چکی ہے) نامی اسکیم میں بیوقوف بنا رہا تھا۔ ہزاروں لوگوں نے اس کی دعوت پر گولڈن کی جوائن کی تھی۔ پھر ایک دن یہ کمپنی ختم ہو گئی اور لوگوں کا کروڑوں روپیہ ضائع ہو گیا۔ اور اب ایک بار پھر جو کبھی گولڈن کی کے ڈبل بادشاہ تھے آج ٹائنز کے سرمائی جادو گر بن گئے۔ ہماری بلکھڑ عوام کو اپنی اس نئی فراڈ کمپنی کے سہانے خواب دکھا نے شروع کئے۔ یوٹیوب پر موجود اپنے انٹرویو میں برہان بصری اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ میں گولڈن کی میں تھا اور پھر میں نے چھوڑ دیا۔ کیا برہان بصری سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ تم نے تو ہزاروں لگا کر لاکھوں کما لیے اور تمہارے نیچے لوگوں کا کیا بنا ہو گا جو ادھار اٹھا کر یا اپنی بیوی کا زیور بیچ کر تمہاری فراڈ کمپنی کے ممبر بنے تھے؟
اس انٹرویو میں وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہم لوگ ان کو ٹائنز میں لا رہے ہیں ۔ حالانکہ برہان بصری کے یہ الفاظ ہوتے چائیے تھے کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہم ٹاینز میں پھر سے ان لوگوں کی دولت لوٹ رہے ہیں اور کبھی گولڈن کی تو کبھی ٹائنز کے نام پر پاکستانی عوام کی دولت لوٹتے رہیں گے۔
اس کے بعد پاکستان میں اس جیسی فراڈ کمپنیوں میں دوسرا بڑا نام کامران فرحت کا ہے جس نے گولڈ ماینز انٹرنیشنل نامی کمپنی کے ذریعے حال ہی میں پاکستانی عوام کے کروڑوں روپے لوٹے اور آج GMIپاکستان میں مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔
اگر ہم نیٹ ورک مارکیٹنگ کی پاکستان میں تاریخ دیکھیں تو اس طرح کی ایک اسکیم 1980کی دہائی میں شروع ہوئی تھی۔ جس کے تحت کوئی بھی شخص ایک سو روپے ادا کر کے ممبر بن جاتا تھا اور اسکیم کی ممبر شپ حاصل کرنے کے بعد یہ ممبر شپ حاصل کرنے کے بعد یہ ممبر پھر مذید ممبر لانے کا اہل ہو جاتا تھا۔ ہر ممبر لا نے پر سو روپے میں بیس یا پچیس روپے کمیشن ملتا تھا۔ باقی پیسے سکیم چلانے والی کمپنی کو ملتا تھا۔
چند کمپنیاں جن میں برناس، گولڈن کی انٹرنیشنل، گولڈ مائنز انٹرنیشنل اور ٹائنز جیسی مشہور ہوئیں۔ برناس، گولڈن مائنز کی انٹرنشنل اب بند ہو دچکی ہے جبکہ ٹائنز ابھی آخری سانسوں پر ہے اور اب انشاء اللہ بھاگنے والی ہی ہے۔ البتہ اس کی جگہ لینے کے لئے ایک نئی کمپنی گرین ورلڈ شروع ہو چکی ہے۔
GMI
ان کمپنیوں کے لٹریچر اور لیکچروں سے یہ معلوم ہوا کہ دنیا میں جائز ذرائع سے کمانے کے طریقے سے بہت کم ہیں اور وہ صرف دو ہیں۔ 1ملازمت 2کاروبار
ملازمت میں اہلیت، تعلیم، تجربہ اور وقت کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔ تنخواہ ابھی محدودسی مقرر ہوتی ہے۔ چاہے محنت کم ہو زیادہ۔ کاروبار میں سرمایہ ، تجربہ اور وقت تو بیش بہادینا ضروری ہوتاہے۔ جبکہ اس سسٹم میں نہ زیادہ تعلیم، سرمایہ اور اہلیت کی اور نہ ہی زیادہ وقت دینا پڑتا ہے، بس معمولی وقت دے کر آپ اپنے سب خواب پورے کر سکتے ہیں۔ اس میں نوکری، کاروبارکی طرح کوئی رسک بھی نہیں۔ کیونکہ کمپنی میں کوئی رسک بھی نہیں کیونکہ کمپنی میں کوئی کسی کا باس نہیں، سپر وائزر ، مینیجر، ڈائریکٹر وغیرہ کے عہدے محض اعزازی سے ہیں۔ ماضی میں ہمارے سامنے گولڈن کی والوں کی مثا ل ہے جس میں گولڈن کی والوں نے اخبارات میں اپنے ایک اعزازی ڈائریکٹر برھان بصری کو کمپنی کے مفاد کے منافی سرگرمیوں کی بنا پر برطرف کرنے کا اشتہار دیا۔
ان فراڈ کمپنیوں کو واحد مقصد آسانی سے کروڑوں ڈالر کمانے ہیں۔ یہی وجہ سے کہ یہ کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کئی گنا مہنگی فروخت ککرتی ہیں اگر یہ مارکیٹنگ کا عام مروجہ اور شفاف طریقہ فروخت اختیار کرتے تو زیادہ دولت اکٹھی نہیں کر سکتے تھے۔ اسی لئے ان سودی اور قماری سکیموں نے ملٹی لیول مارکیٹنگ کا طریقہ اپنایا مثلاً ٹائنز کمپنی کی پروڈکٹ میں ایک ٹوتھ پیسٹ کی قیمت 350روپے ہے جبکہ مارکیٹ میں ایک اچھی ٹوتھ پیسٹ 50سے 60روپے دستیاب ہے۔ کیلشیم کی ڈبی کی قیمت 2100روپے ہے جبکہ ماکیٹ میں بہترین کیلشم کی دس گولیاں اور دس ساشے 100روپے سے 120 میںستیاب ہیں۔ GMIکمپنی میں گھڑی کی قیمت 8000روپے تھی۔ ایسی گولڈ پلیٹنڈ گھڑی مارکیٹ میں 2000روپے میں خریدی جا سکتی ہے۔ اسی طرح گولڈن کی ایک کین یا کٹر کی قیمت 1300روپے تھی۔ جو ممبرز کے لئے فضول اور کسی کام کا نہیں۔ بے بی لوشن 750روپے تھا، مارکیٹ میں بہترین بے بی لوشن 200روپے تک مل جاتا ہے۔ گولڈن کی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ ممبران کو جو چیز خریدنے کی رغبت دی جاتی تھی، وہ ایک فوڈ سپلیمنٹ تھا جسے کینسر، شوگر، ہیپاٹائٹس سمیت بہت سی بیماریوں کا جادوئی علاج کیا جاتا تھا۔ اس کی قیمت 19000روپے تھی۔ یہ تقریباً انر جائل کے ڈبے سے کچھ سائز بڑے میں ایک سفوف سا ہوتا تھا۔ اب انر جائز بھی انہی جیسے مہنگے فوڈ سپلیمنٹ بیج رہی ہے۔ ان کمپنیوں کے مطابق ان کی سب اشیاء بڑے خاص سائنسی طریقوں سے تیار کی جاتی ہے۔ اور بہت سی اشیاء نا قابل علاج بیماریوں کا علاج بھی ہیں لیکن کمپنیاں یہ اشیاء عام مارکیٹ نہیں رکھتی کیونکہ اس سے وہ اپنی اشیاء مہنگے داموں فروخت نہیں کر سکتی۔ اور نہ عوام کو لوٹ سکتی ہیں۔
ہمارے ملک پاکستان میں ایسی کمپنیاں آئی اور بھاگ گئیں۔لاہور میں 2009 میں ٹائنز نامی کمپنی چلی جو بہت جلد بھاگ گئی۔ اگر ہم اپنے شہر منڈی بہائوالدین کی بات کریں تو منڈی بہائوالدین میں 2010 میں گولڈ مائن انٹرنیشنل GMI آئی تھی جو چند ماہ چلنے کے بعد بھاگ گئی۔ اب ٹآئنز کمپنی جو کہ ۲۰۱۳ میں منڈی بہائوالدین میں پنجاب سنٹر، پھالیہ روڑ پر موجود ہے جو کہ ہزاروں لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹ چکی ہے اور پتا نہیں کتنے اور لوٹے گی
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر تمام لوگ سکیم کے ممبر بن جائیں تو یقینا سارا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ پھر جب کوئی ممبر بننے والا ہی نہ رہے گا تو سینکڑوں نئے ممبرز کی رقوم کا کیا بنے گا۔کیونکہ جب تک بڑی تعداد میں ممبرز بنتے رہیں تو زیادہ کمیشن مل نہیں سکتا۔ اس لئے کمپنی والے کہتے ہیں کہ فائدہ میں وہی رہے گا جو پہلے ممبر بنے گا۔
ان سکیموں میں پیرا مڈ سیل کا طریقہ استعمال ہوتا ہے۔ یہ سکیمیں پہلے بھی کئی غریب ملکوں کو نشانہ بنا چکی ہے اور یہ جوئے کی شکلیں ہیں جو دنیا کے کئی ملکوں میں بھی بروئے کار رہی ہیں۔ انہیں Pyramid Salesیعنی مخروطی طریقہ فروخت کہا جاتاہے جس میں ممبران کی بیس یعنی قاعدہ جس قدر بڑھتا ہے اوپر اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ان سکیموں کا زیادہ تر نشانہ ترقی پذید اور غریب ممالک ہوتا ہے۔ البانیہ انہی وجہ سے دیوالیہ ہو گیا تھا کیونکہ ان سیکمیوں میں لوگوں کی بہت زیادہ رقم غیر ضروری چیزویں کی فروخت کے نام پر ان کمپنیوں کے پاس جمع ہو جاتی ہے۔ لوگ زیادہ کمیشن کے لالچ میں یہ غیر ضروری چیزیں کافی مقدار میں خرید لیتے ہیں اور منافع کی آس میں ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں جس سے ملک کی اصل ترقی و تجارت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ان سے مسلمانوں کو ہر صورت ہوشیار رہنا چاہیے اور اس سے بچنا چاہیے۔۔
ان کمپنیوں کا طریقہ کار سرا سر حرام ہے اور ان کی حرمت کی کئی موجوہات ہیں۔
ان کمپنیوں نے اپنے لٹریچر میں یہ وضاحت کی ہی ہے کہ ہماری اس کمپنی کا ممبر بننے میں خسارے کا کوئی امکان نہیں۔No Riskکے الفاظ ان کے لٹریچر پر لکھے ہیں اور یہ سرا سر سود ہے جس کو اللہ رب العا لمین نے حرام کیا ہے۔ اس کو تجارت اور منافع قرار دینا سود کے مفہوم سے جہالت یا تجاہل کا نتیجہ ہے (جس سے ان کی حیلہ سازی کاثبوت بھی ملتا ہے)کیونکہ انسان کے لیے منافع کے حصول کی عموماً تین صورتیں بنتی ہیں۔

GreenWorld internet connected community

1۔ اپنا مال کسی دوسرے شخص کے سپرد کر دینا کہ آپ اس مال سے تجارت کریں اور جو فائدہ ہو گا اسے ہم آپس میں ایک متعین مقدار پر تقسیم لر لیں گے۔ یہ صورت صرف مال سے منافع حاصل کرنے کی ہے۔ اس میں مال اور محنت دونوں کے ضائع ہو جانے کاامکان بھی رہتا ہے۔ اس صورت میں منافع اور سود میں فرق بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ سودی کاروبار میں پہلے سے منافع کی شرع متعین ہوتی ہے اور وہ یقینی ہوتا ہے جیسا کہ یہ کمپنی والے خود افراد اور اعلان کر رہے ہیں کہ آپ کا منافع بے حساب اور یقینی ہے جبکہ تجارت میں منافع یقینی بھی نہیںہوتا اور اس کی شرع متعین بھی نہیں ہو سکتی۔
2.انسان خود اپنے مال کے ساتھ تجارت کرے اور اسے اس سے نفع حاصل ہو یا اپنا مال کسی دوسرے کو دے اور اس کے ساتھ خود بھی کام کرے۔ اس صورت میں بھی سود تجارت سے مختلف ہے کیونکہ تجارت میں مال والا اپنی محنت صرف کرتاہے جبکہ سودی کاربار میں مال والا کوئی محنت نہیں کرتا۔ ان سکیموں میں یہ ہوتا ہے کہ جب پہلا ممبر بن جائے تو آگے مزید دو یا تین ممبر بنائیں۔ بنیادی ذمہ داری اگلے ممبر کی ہے نہ کہ پہلے ممبر کی۔ لیکن پہلا ممبر آخر تک بننے ولاے ممبر کے منافع اور کمیشن میں شریک ہو جاتا ہے۔ جبکہ ان سب سے پہلے ممبر کی کوئی محنت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی مال دیا ہوتا ہے۔
3۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ بندہ صرف کام ہی کر لے اس کا اپنا کوئی مال اس میں لگاہوا نہ ہو جیسے کوئی شخص مضاربت پر محنت کر رہا ہے یا کسی اور شخص کے کام میں شریک ہے کہ نفع آپس میں تقسیم کر لیں گے۔ اس صورت میں بھی آدمی اپنی محنت کے نتیجہ میں نفع حاصل کر رہا ہے۔ جبکہ کمپنی کا ممبر دوسروں کی محنت کے نفع میں شریک ہوتا ہے۔ لہٰذا ان وجوہات کی بناء پر اس کمپنی کاتمام کاروبار سود کے زمرہ میں آجاتا ہے۔
پھر شریعت اسلامیہ کا یہ مسلمہ ضابطہ ہے کہ کسی بھی کام اور معاملے پر حکم اس کے مقصد کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے۔ اگر وہ کام حلال ہے۔ مگر جس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے وہ خلاف شریعت اور حرام ہے تو اس کا حکم اور ہو گا اور اگر وہ حلال موافق شریعت اور حرام ہے تو اس کا حکم اور ہو گا اور اگر وہ حلال موافق شریعت مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے تو اس کا حکم اور ہو گا۔ انگور کی تجارت کرنا اور اسے فروخت کرنا حلال ہے لیکن جب اس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ شراب کشید کرنے کے لئے خریدنا چاہتاہے تو اس کا حکم اور ہو گا۔ مکلف کے تمام قولی اور فعلی معاملات میں یہی اصول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

tiens, goldekey, green world, gmi


Read Online

tiens golden key green world gmi

Download

ٹائنز کمپنی کا شرعی حکم۔(جامعۃ الرشید کراچی)۔


:: سوال

ٹائنز (TINES )کے نام سے ایک کمپنی پاکستان میں اپنا بزنس کررہی ہے ۔جو علاج بالغذاء کے قانون کے تحت لوگوں کی بیماریوں کا علاج کرنے کے لیے فوڈ کمپلیمینٹ آن لائن فروخت کرتی ہے ۔اس کے علاوہ گھریلو استعمال کی اشیاء بھی فروخت کرتی ہے ۔جبکہ دنیاکے 9 ممالک میں اس کے اپنے پروڈکشن پلانٹ ہیں ۔اور 170 ممالک میں اس 
کابزنس پھیلاہواہے ۔اس کی بنائی گئی مصنوعات بہت اچھی شہرت کی حامل ہیں اورجوخصوصیات کمپنی کے نمائندوں کی طرف سے بتائی جاتی ہیں ۔وہ تمام ان اشیاء میں موجود ہوتی ہیں ۔اوریہ کمپنی اپنی مصنوعات ڈائریکٹ سیلنگ کے ذریعہ سے صرف اپنے مقررکردہ سینٹرز اورنمائندوں کے ہاتھوں ہی فروخت کرتی ہے ۔اوراپنے فروخت کنندگان کو 
سچائی اورایمانداری سے مصنوعات فروخت کرنے کا پابند بناتی ہے ۔اور جھوٹ بول کر اشیاء فروخت کرنے سے منع کرتی ہے ا۔کیونکہ کمپنی کے کتابچہ میں لکھاہواہے کہ مثبت رویے اورسوچ سے آپ کو منز ل سے کوئی چیز دورنہیں کرسکتی ہے ۔جبکہ غلط سوچ اوررویے سے آپ کو منزل نہیں مل سکتی ۔چنانچہ مصنوعات میں وہ خواص بیان نہ کیے جائیں جوان میںموجود نہ ہوں ۔اور واضح رہے کہ تمام فوڈ کمپلیمنٹ میں حرام اشیاء نہیں ہوتی ۔ بزنس کا طریقہ کار: 
کمپنی چونکہ اپنی مصنوعات صرف مقررکردہ ڈیلرز کے ہاتھوں ہی فروخت کرتی ہے ۔عام مارکیٹ میں یہ اشیاء موجود نہیں ہوتیں ۔چنانچہ کمپنی سب سے پلے 1250 روپے لے کر فروخت کنندہ کو اپنے نمائندے کی حیثیت سے رجسٹرکرتی ہے ۔اور اس کو اسٹارون(*1 )کا رینک دیتی ہے ۔اور 7pv کا ایک بونس دیتی ہے ۔آگے چلنے سے پہلے چند خاص باتوں کی وضاحت کرتاچلوں تاکہ مسئلہ سمجھنے میں اوربعد میں فتویٰ دینے میں آسانی رہے ۔ نمبر۱:یہ کہ جہاں بھی لفظ ppv استعمال ہوگا ۔اس سے مراد پرسنل پوائنٹ ویلیوہوگی ۔اورپرسنل پوائنٹ ویلیوکا ما انحصار مذکورہ رجسٹرڈ *1 کی ذاتی خریداری پر ہوگا۔یعنی *1 جتنی زیادہ خرید کرے گا اتنے ہی اس کے پرسنل پوائنٹ ویلیومیں اضافہ ہوگا۔اورجتنے ppv زیادہوں گے ۔ان کے حساب سے اس کی خریدی گئی اشیاء پر 20 فیصدرقم واپس ملے گی ۔ 
نمبر۲:یہ کہ جہاں بھی Gpv کا ذکر ہوگا اس سے مراد گروپ پوائنٹ ویلیو ہوگی ۔اور جی پی وی کا انحصار اس کی ٹیم میں شامل دیگر ارکان کی خرید پر ہوگا ۔اور جتنے جی پی وی ہوں گے اتنا ہی ٹیم لیڈرکو بونس اورفیصد میں کمیشن ملے گا۔یعنی یہ زیادہ محنت زیادہ خرید اور زیادہ منافع کے اصول پر عمل درآمد ہے ۔ نمبر۳:ppv یا Gpv ایک ڈالر کی مالیت کے برابر ہوتاہے ۔پاکستانی روپے میں جو ڈالر کی مالیت ہوگی ۔یعنی ایک ڈالر سے کچھ زائد کی خرید پر کمپنی اپنے نمائندوں کو ایک گروپ پوائنٹ ویلیو پا پرسنل پوائنٹ ویلیودیتی ہے ۔اگر اس کی ٹیم کی خریداری ہوتو جی پی وی ملتے ہیں ۔اور اگر اس کی ذاتی خریداری ہوتو پی پی وی ملیں گے ۔ 
اس وضاحت کے بعد عرض ہے کہ اب جو *1 رجسٹرڈ نمائندہ تھا جب اس کے پی پی وی 100 سے زیادہ ہوجائیں گے تو وہ *2 بن جاتاہے اورجب اس کے پی پی وی 300 سے زیادہ ہوں گے تو وہ *3 بن جائے گاجیساکہ ڈایاگرام سے واضح ہے ۔ *1 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1250 روپے رجسٹرڈ ہونے پر 
*2 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔100PPV ہونے پر 
*3 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔300PPV ہونے پر 
اب یہ تھری اسٹار کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے اپنی ٹیم بنائے گا۔اور اوپر بیان کردہ طریقے سے لوگوں کو کمپنی میں رجسٹرڈ کروائے گا ۔مگر واضح رہے کہ وہ جتنے لوگوں کو بھی محنت کرکے اپنی ٹیم میں شامل کرناچاہے کرسکتاہے ۔اور شامل یعنی رجسٹرڈ ہونے والے ہر فرد کے بدلے اورہرفرد کی خرید پر اس کے GPV میں اضافہ ہوگا ۔اوران GPV کے حساب سے اسی تھری اسٹار کو 15 فیصد کمیشن ماہ کے آخرمیں ملے گا۔واضح رہے کہ تھری اسٹار کو ہرون اسٹار کی خریداری پر GPVاور کمیشن ملے گا۔ اب جب مذکورہ تھری اسٹار کے رجسٹرڈ کروائے گئے ٹیم کے چارافراد مذکورہ طریقے سے تھری اسٹار بن جائیں گے ۔یا تھری اسٹار مذکورہ کے GPV ا1500 سء بڑھ جائیں گے ۔تو اب یہ تھری اسٹار ترقی کرکے فوراسٹار بن جائے گا۔اب جب اس فوراسٹار گروپ لیڈرکے چاروں تھری سٹار اپنے لیڈر کے طریقہ کار پر چلتے ہوئے اسی طریقے سے اپنے اپنے فورفوراسٹار بنائیں گے توان کو ترقی دے کر فوراسٹار اوران کے گروپ لیڈرکو فائیواسٹاربنادیاجائے گا۔اب اس فائیو اسٹار گروپ لیڈر کو اپنے رجسٹرڈ کروائے گئے چاروں فوراسٹار کی خریداری پر GPV اوراسی GPV پر 15% کمیشن کمپنی کی طرف سے ملے گا۔اوران چاروں فوراسٹار کے اپنے اپنے فورفوراسٹار یعنی 16افراد کی خریداری پر GPV اور اسی GPVپر 4.19%کمیشن ملے گا۔اسی طرح یہ سلسلہ اوپر تک چلتاجائے گا۔اورگروپ لیڈر اوران کی ٹیم کے دیگرارکان کی ترقی کمیشن اوررینک میں اضافہ ہوتاجائے گا ۔جبکہ گروپ لیڈر اپنے فوراسٹار کو کنٹرول کرے گا۔وہ اپنے سے نیچے والوں کو کنٹرول کرے گا ۔اوریوں یہ سلسلہ چلتارہے گا۔ واضح رہے کہ گروپ لیڈر کو اپنی ٹیم کو کنٹرول اورمتحرک اوراپنی آمدن میں اضافے کے لیے تین کام ضرور اورمسلسل کرناہوں گے ۔ 
۱)اسی مذکورہ نیٹ ورک کے ذریعہ سے اشیاء کی خرید وفروخت اوراستعما ل کرنااوراشیاء کی خصوصیات کے بارے میں علم حاصل کرنا۔ 
۲)اپنی ٹیم افراد میں اضافہ کرنے کے لیے محنت کرنا ۔ 
۳)اپنی ٹیم کے دیگر ارکان اورکمپنی میںنئے رجسٹرڈ ہونے والے لوگوں کو اشیاء کی خصوصیات کا علم دینا ان کی تربیت کرناکہ اشیاء کو کسیے فروخت کریں اوراستعمال کریں ۔اوراپنی ٹیم اورکمپنی کے نیٹ ورک میں کیسے اضافہ کیاجاسکتاہے۔ 
سوال نمبر۱:اب یہاں یہ دریافت طلب ہے کہ کیاگروپ لیڈر کا اپنے رجسٹرڈ کروائے گئے فوراسٹار اورپھر ان فوراسٹار کے آگے بنائے گئے سولہ تھری اسٹار کی خریداری میںسے کمیشن لیناجائز ہے یانہیں ؟جبکہ اس نے اپنے رجسٹرڈ کروائے گئے چاروں فوراسٹارپر تو ڈائریکٹ محنت کی ہوتی ہے مگران فوراسٹار کے سولہ تھری اسٹارپر ڈائریکٹ محنت نہیں ہوتی ،ہاں رہنمائی ضرورکرتاہے ۔واضح رہے کہ تمام کا تمام کمشین کمپنی اپنی سیل سے دیتی ہے ۔ٹیم کے دیگر ارکان کی کمشین سے نہیں کاٹاجاتا۔ایک اور بات واضح رہے کہ گروپ لیڈر کو فائیو اسٹار رینک پر پہنچنے کے بعد 50PV کی آٹوشپ کرنا ہوتی ہے ۔جو صرف ذاتی خریداری سے ہی ممکن ہے ۔اگر وہ نہیں کرتاتو ایک فیصد لیڈرشپ الاونس اوراپنی ٹیم کے GPV کے حساب سے فیصدمیں کمیشن ملے گا اور اگر وہ آٹوشپ نہیں 
کرتااورصرف PPV ہی بناتاہے تواس کو لیڈرشپ والا الاونس نہیںدیاجاتا ۔اور GPVمیں سے کمیشن کم کرلیاجاتاہے ۔پھر اس نے جتنے PPV بنائے ہوتے ہیں اسی شرح سے اس کو کمیشن ملتاہے ۔باالفاظ دیگر آٹوشپ نہ کرنے سے کمپنی اس کولیڈر نہیں سمجھتی اورگروپ میںمحنت کرنے سے کترانے والا سمجھتی ہے ۔مزید برآں یہ ہے کہ اگروہ خود خریداری نہیں کرتاتو اسکو مصنوعات اوران کے استعمال کا علم نہیں ہوسکے گا۔ہاں جتنی اس نے خریداری کرکے PPV بنائے ہوتے ہیں اتنا فیصد کے حساب سے کمیشن دیتی ہے ۔ 
سوال نمبر۲: 
اب دریافت طلب امریہ ہے کہ کیا کمپنی کا یہ لائحہ عمل جائز ہے یانہیں؟بالخصوص جبکہ کمپنی میں لیڈرشپ یا ترقی کے لیے محنت کو دارومداربنایاگیاہے اور GPVاورPPV اس کی مثال ہیں ۔اورمزید برآں کہ یہ مذکورہ کمپنی میں رجسٹرڈ ہوناجائز ہوگا یانہیں ؟برائے مہربانی وضاحت کے ساتھ وجواب سے نوازیں 

:: جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

۱)اسکیم کا مقصد: 
اسکیم کامقصد پروڈکٹ کی فروختگی ہے یا بذریعہ کسٹمر سازی لوگوں سے رقم جمع کرنا۔پہلی بات تو بظاہر درست معلوم نہیںہوتی ۔اس لیے کہ اگر مقصد پروڈکٹ کی فروختگی ہوتویہ پروڈکٹ مارکیٹ میں دستیاب ہونی چاہیے یا کمپنی کے اسٹورپر صارفین کو ملنی چاہیے جب کہ ایسانہیںاوراس طرح ا ن اشیاء کی بازاری قیمت کے مقابلہ میں یہ اشیاء وہاں سے زیادہ مہنگی بھی ملتی ہیں ۔اس کے باوجود بھی صارف وہاں سے لینے کے لیے تیارہوجاتے ہیں ۔لہذااسکیم کا مقصد بذریعہ ممبرسازی لوگوں سے رقم جمع کرانا اورکو کمیشن کارڈ کا لالچ دیناہوا۔ ۲)ممبرشپ کی فقہی تکییف: 
اوریہ طریقہ جوئے کی ایک صورت ہے کیونکہ کمپنی کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اولا صارف سے رجسٹریشن فیس لیتی ہے جس کی مقدار بعض جگہوں پر 1250 اور بعض جگہوں پر 1150 ہے ۔اس میں سے بھی 900 رجسٹریشن فیس ہے جبکہ بقیہ رقم کمپنی کانمائندہ اپنے اخراجات کے لیے رکھتاہے ۔اس لیے اس کی مقدار کم زیاد ہ ہوتی ہے ۔اس کے بعد کمپنی کی طرف سے ممبرکو ایک رجسٹریشن کارڈ اورکتابچہ وغیرہ دیاجاتاہے ۔ممبرکا کمپنی میں رجسٹریشن سے مقصد مزید ممبران بنانے پر کمیشن یا ذاتی خریداری پر ڈسکاونٹ کی توقع ہوتی ہے ۔جس کی محض امید ہوتی ہے ملنا یقینی نہیں ہوتا۔کیونکہ PV پر 20% ریٹرن اور GPVپر 15% کمیشن ملنے کے لیے 300PV یعنی تھری اسٹار ہوناضروری ہے ۔اوراگر ایسانہ کرسکا تو کمیشن بالکل نہیںملے گابلکہ رجسٹریشن فیس کی مد میں جمع کرائی جانے والی زائد رقم بھی ڈوب جائے گی 
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسکیم کا یہ طریقہ کار جوئے کی ایک صورت ہے کیونکہ اس میں رقم اس طورپر داوپر لگائی جاتی ہے کہ یا وہ مزید رقم (کمیشن کی صورت میں )کھینچ لائے یا اصل ہی ڈوب جائے گی اوریہی قمارہے ۔ 
۲)دوسری بات یہ ہے کہ ٹائنز میں بطورایجنٹ کمیشن کمانے کے لیے خودایجنٹ کے لیے پروڈکٹ کو خریدنا لازم ہے اگریہ پروڈکٹ نہ خریدے تو ایجنٹ نہیںبن سکتالہذاایک معاملے کو دوسرے کے ساتھ مشروط کرنا لازم آتاہے جو کہ سود کے زمرہ میں آتاہے ۔اس لیے ٹائنز کمپنی کا یہ طریقہ کار کاروبار سود ،جوئے پر مبنی ہونے کی وجہ سے بالکل ناجائز اورحرام ہے ۔لہذاکمپنی کی ممبرشپ اختیارکرنا اورکمیشن وغیرہ کماناجائز نہیں ۔اس لیے مسلمانوںپر لازم ہے کہ حرام خوری کے ان حیلوںبہانوں سیاحتراز کریں ۔ 
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم 

’’گولڈمائن انٹرنیشنل کمپنی


-1 سوال میں تحریر کردہ ’’گولڈمائن انٹرنیشنل کمپنی‘‘ کے طریقۂ کار پرغورکیاگیا‘آج کل اس نوعیت کاکاروبار کرنے والی بہت سی ایسی کمپنیاں آئی ہیں جوکم قیمت کی چیزمہنگے دام میں فروخت کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ آگے ممبربناکر اس پرکمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں۔ لوگ کمیشن کے لالچ میں آکرکم قیمت کی چیزمہنگے داموں میں خریدلیتے ہیں جوشرعاً قماریعنی جوئے کی ہی ایک شکل ہے۔
چنانچہ ’’گولڈمائن انٹرنیشنل کمپنی‘‘ کی مصنوعات اگر عام بازار ی قیمت سے زیادہ پرفروخت کی جاتی ہیں تو یہ کاروبار بھی ناجائز ہے اور اس کے معلوم کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ اگرکمپنی کی مصنوعات مارکیٹ میں نہیں ہیں تو اس چیزکوعام مارکیٹ میں فروخت کرے‘لوگ جس قیمت پرخریدنے کے لیے تیارہوں ‘وہ اس کی بازاری قیمت ہے۔اب اگرکمپنی کی قیمت پرلوگ خریدنے کے لیے تیارہیں تواس کی قیمت بازاری قیمت کے برابرہے اور اگر اس قیمت پرلوگ خریدنے کے لیے تیارنہیں تویہ علامت ہے کہ اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے اور زیادہ قیمت داؤپر لگی ہوئی ہے کہ اگریہ شخص ممبر بنانے میں کامیاب ہوگیا توٹھیک ہے اور اگر ممبربنانے میں کامیاب نہ ہوسکا تواس صورت میں اس کی زائد رقم ڈوب جائے گی۔
لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابرہوں یابہت معمولی فرق ہوتو بھی اس کمپنی کے طریقۂ کار میں درج ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
-1 یہ بات جوکہی جاتی ہے کہ کمپنی کااصل مقصدکمپنی کی مصنوعات کوفروخت کرناہی ہے‘ محض حیلہ بناکر سرمایہ کی گردش نہیں ہوتی تو یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص بغیر ممبر بنے اس کمپنی کی مصنوعات کوخریدناچاہے اوراس زنجیر میں شامل نہ ہو تو کمپنی اس کویہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی۔
-2 کسی شخص کاکمپنی کے طریقۂ کار میں کمیشن کاحقدار بننے کے لیے دونوں طرف ممبر بناناشرط ہے۔چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبربنائے اور دوسری طرف نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے تواس کو اس کی محنت کاصلہ نہیں ملتا۔
شرعی اعتبارسے یہ شرط لگانا جائز نہیں کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بے کار جاتی ہے اور اس کاصلہ ااس کو کچھ نہیں ملتا‘ دوسرایہ ہے کہ اس صورت میں اس کوملنے والاکمیشن وجود عدم کے درمیان معلق ہے۔ گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگردونوں طرف ممبر بنائے تو اتناکمیشن ملے گااور اگراس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گااور شرعاً یہ درست نہیں ہے۔ہاں اگریہ ہوتا کہ ایک طرف ممبربنانے پرکمیشن کم ملے گا اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پرمکمل کمیشن ملے گا تواس کی شرعاً گنجائش ہے۔
لہٰذا اس موجودہ طریقۂ کار میں جوخرابیاں ہیں‘ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرناجائزنہیں‘ اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کوبھی بچائیں۔ (مآخذہ تبویب:37/1115)
-2 جولوگ اس موجودہ طریقہ کار کے مطابق اس کاروبار میں شامل ہیں‘ان کو چاہیے کہ اس کاروبارکوچھوڑ دیں اور جو غلطی ہوئی اس پرتوبہ واستغفار کریں اوراس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کواستعمال کرنے سے اجتناب کریں۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
محمدطلحہ اقبال عفی عنہ
دارلافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی
۲۷/۱/۱۴۳۰ھ
الجواب الصحیح الجواب الصحیح
مولانامحمداشرف نائب مفتی مولانااصغرعلی ربانی
مولانامحمد عبدالمنان سیدحسین احمد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی تمام کمپنیاں جن میں شریک ہونے والا شخص اپنے دائیں بائیں دو، دو یا اس سے زیادہ افراد کو ممبر بنانے کا پابند ہوتا ہے۔ ان کا کاروبار جوا، سود، دھوکہ اور ان کے علاوہ بہت سے اسباب کی بنا پر صریحاً حرام ہے۔ ان کمپنیوں کا اصل مقصد اپنی مصنوعات فروخت کرناہرگز نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ مصنوعات خریدنا ممبر بننے والوں کا مقصد ہوتا ہے یہ مصنوعات صرف حکومتوں کے عالمی قوانین سے بچنے کے لیے (کہ جن میں کسی بھی کمپنی کو بغیر کسی پروڈکٹ کے اس قسم میں ممبر سازی کے پروگراموں سے روکا جاتاہے) رکھا جاتا ہے یا علمائے حق کے برائے راست فتاویٰ سے بچنے کے لیے ان مصنوعات کو حیلہ کے طور پر درمیان میں رکھا جاتا ہے اس پر کئی امور دلالت کرتے ہیں:
1۔ مصنوعات کے نام سے جو چیزیں جس قیمت پر پیش کی جاتی ہیں۔ اس جیسی یا اس سے بہتر معیار کی چیزیں عام مارکیٹ سے اس قیمت سے بہت کم قیمت پر مل سکتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ان مصنوعات کی زیادہ ادا کی گئی قیمت میں سے کچھ حصہ کمپنی کی پیش کردہ پروڈکٹ کا ہوتا ہے۔ اور باقی اس کمپنی کا ممبر بننے اور مزید منافع حاصل کرنے بدلے میں ہوتا ہے۔جس یقینی منافع کا پختہ وعدہ ہر ممبر بننے والے کو دیا جاتا ہے۔پروڈکٹ کی قیمت تو ٹھیک لیکن ممبر سے پروڈکٹ کی قیمت کے نام پر زائد قیمت اور اس زائد قیمت پر منافع کا وعدہ خالصتاً سود ہے جس کی حرمت میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{ اَحَلَّ اﷲُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا}۔(البقرہ:۲۷۵)
اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ اور رسول اللہe نے بھی فرمایا ہے۔
’’ الربا سبعون باباایسرھا مثل ان ینکح الرجل امہ۔‘‘ (صحیح الجامع الصغیر،ح:۳۵۴۱)
2۔ کمپنی کی مصنوعات جس قیمت پر دی جاتی ہیںوہی چیزیں اس سے چوتھا حصہ یا اس سے بھی کم قیمت پرعام مارکیٹ میں مل سکتی ہیں۔
3۔ ممبر بننے والے اکثر صارفین کو ان مصنوعات کی ضرورت سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ وہ صرف ممبر شپ کے ذریعے منافع حاصل کرنے کی خاطر اس میں شامل ہوتے ہیں۔
4۔ ان کمپنیوں کا مقصد اپنی مصنوعات فروخت کرنا ہوتا تو یہ تجارت کے معروف اور شفاف طریقے استعمال کرتے لیکن ان کا اصل مقصد یہ نہیں ہوتابلکہ اصل مقصد تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ مارکیٹنگ کا وہ گورکھ اور پیچیدہ طریقہ ہے جس کے ذریعے چند سو یا چند ہزار روپے لگا کر لاکھوں کروڑوں میں بدل جائیں۔
5۔ خود ان کمپنیوں والوں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ بے روز گاروں کے لیے کام کی فرصتیں پیدا کرتے ہیں۔یہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ ان کا اصل مقصد مصنوعات فروخت کرنا نہیںبلکہ افراد کو اس سلسلہ میں شامل کرنا ہے کیونکہ کام کی فرصتیں پیدا کرنا افراد کا سلسلہ بنائے بغیر ممکن نہیں ۔
اس کاروبار کو شرعی لحاظ سے دیکھا جائے تو شریعت اسلامیہ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ الاحکام تبنی علی المقاصد وا لمعانی لا علی الالفاظ والمبانی کاموں اور معاملات میں احکام کی بنیاد مقاصد پر ہوتی ہے۔ الفاظ اور معاملات کی ظاہری شکل پر نہیں۔
(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ، ج:۲۰، ص:۵۵۱، زاد المعاد ج:۵، ص:۸۱۳)
چونکہ اس طرح کی کمپنیوں میں اصل چیز ممبر سازی کا سلسلہ ہے۔ اس سسٹم میں ہر نیچے والا ممبر اوپر والے اور کمپنی کو ایک متعین رقم دے کر ہی کمپنی کی ممبر شپ حاصل کر سکتا ہے اور ان پیسوں پر ہی اسے مسلسل نفع ملتا رہتا ہے۔ یہ بھی صریحا سود ہے اور ظلم بھی ہے۔ کیونکہ ان لوگوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ جن کے ساتھ نفع لینے والے کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔
اس سسٹم میں ہر بعد میں شریک ہونے والے ممبر کی رقم جوئے پر لگی ہوئی ہے۔ کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ وہ اپنے نیچے دوسرے لوگوں کو قائل کر کے پھنسانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ۔ نیچے والا غالباً خسارے اور نقصان کے ہی نشانہ پر ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہ کمپنیوں والوں کا خود اعتراف ہے ۔ کہ زیادہ فائدہ بھی وہی لے گا جو پہلے ممبر بنے گا۔ لیٹ اور زیادہ عرصہ بعد بننے والے ممبر زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکیں گے۔ جو ممبر بننے میں جتنی لیٹ ہو گا۔ جتنا انتظا ر کرے گا وہ اتنا ہی خسارے میں رہے گا اس لیے فوراً ابھی ہی کمپنی کی ممبر شپ حاصل کر لو۔
شرعی طور پر جس کاروبار میں بعد میں شریک ہونے والے کی رقم کمیشن کے لالچ اور ممبر سازی کی امید میں دائو پر لگی ہوتی ہے۔ یہ کاروبار جواء اور قمارہونے کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلااَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اﷲِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنo}
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جواء اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے ہیں اور شیطان کے کام سے ہیں۔ سو اس سے بچو تاکہ تم فلاح پائو۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوائے کے ذریعے تمہارے درمیان اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آنے والے ہو۔‘‘ (المائدہ:۹۰،۹۱)
نیز یہ سسٹم اور طریقہ اسلام میں دلالی اور کمیشن کی حلال اور جائز صورت بھی نہیں بنتا کیونکہ
1۔ دلالی میں جس کے لیے دلالی کی جا رہی ہو اس سے کچھ خریدنا ضروری نہیں ہوتا۔ دلال صرف اپنی چیز فروخت کرنے والے اور خریدنے والے کے درمیان واسطہ ہوتا ہے۔جب کہ گولڈ مائن انٹرنیشنل اوراس جیسے سسٹم پر قائم کمپنیوں میں دلال بننے کے لیے ان کی پروڈکٹ خریدنا شرط ہے۔
2 ۔ دلالی میں دلال بیسیوں لوگوں کے درمیان جائز دلالی کر کے کمیشن لے سکتا ہے۔ جبکہ اس نظام میں ایک ممبر اپنے نیچے دو سے زیادہ ممبر تیار کر کے شامل نہیں کر سکتا بلکہ اس کے تیار کردہ افراد کو دوسرے ممبروں کے تحت شامل ہونا پڑتا ہے۔ جس میں افراد پر محنت کرنے والوں کی بجائے۔ منافع ان کو ملتا ہے جن کا اس بندے پر محنت میں کچھ بھی عمل دخل نہیں ہوتا۔ یعنی جس نے محنت کی صلہ اس کو نہیں مل رہا اور جس نے نہیں کی اس کو مل رہا ہے۔ جبکہ دلالی میں وہ شخص شریک ہی نہیں ہو سکتا جس نے اس میں محنت نہ کی ہو۔
3۔ دلال کو اپنی محنت پر دلالی ملتی ہے لیکن کمپنیوں کے اس سسٹم میں اپنی محنت پر اولاً تو کوئی اجرت نہیں ملتی اگر اجرت ملتی بھی ہے تو دوسروں کی محنت کی شرط پر ۔
اس لیے یہ کسی بھی لحاظ سے دلالی نہیں بنتی۔
پھر یہ کاروبار اس لحاظ سے بھی ناجائز اور حرام ہے کہ اس میں ہر ممبر اپنی رقم کا کچھ حصہ دائو پر لگاتا ہے اگر ممبر نے مزید گاہک فراہم کر لیے تو کمپنی یہ رقم مخصوص کمیشن کے ساتھ واپس کرے گی جو کہ صریحاً سود ہے اور اگر ممبر نئے گاہک نہ فراہم کر سکا تو اس پہلے ممبر کی دائو پر لگی ہوئی رقم ڈوب جائے گی۔ تو یہ صریحاً جواء ہے۔
یہ کاروبار اس لحاظ سے بھی ناجائز اور حرام ہے کہ یہ فرد ، معاشرے اور ملکی معیشت کے لیے سخت نقصان دہ ہے جب کہ اسلام میں کسی کو نقصان پہنچانا بھی جائز نہیں اور جان بوجھ کر خود نقصان اٹھانا بھی جائز نہیں۔
ابو سعیدالخدری t سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’لا ضرر ولاضرار‘‘۔(مستدرک حاکم، ج:۲، ص:۶۶ ) امام حاکم نے اس کو مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔ اور امام ذھبی نے اس کی موافقت کی ہے۔
کمپنیوں کے اس کاروبار میں یہ دونوں صورتیں موجود ہیں۔ ایک تو اس کے ممبران خود بغیر کسی ضرورت کے مہنگی چیزیں خریدتے ہیں اور دوسرا ممبر در ممبر کے طریقے میں، پہلا ممبر آخر تک ایسے ممبر کی محنت کے منافع میں شریک ہوتا ہے جس پر اس نے سرے سے کوئی محنت کی ہی نہیں ہوتی۔اور نہ ہی اسے کوئی مال دیا ہوتا ہے۔ صرف اپنے اور کمپنی کے منافع کے لیے سادہ لوح دولت کی حریص عوام کو سود، جوئے اور دوسرے کئی محرمات کے مجموعے والے اس کاروبار میں شریک کرنا اسے دنیا اور آخرت میں بڑا نقصان پہنچانا ہے۔
اس کاروبار کے حرمت کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں دھوکہ پایا جاتا ہے۔ جبکہ رسول اللہe نے دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے۔
عن عبداللہ بن عمر w قال نھی رسول اللہe عن بیع الحصاۃ و بیع الغرر ۔(مسلم، کتاب البیوع، باب بطلان بیع الحصاۃ و البیع الذی غرر)
ایسی بہت سی کمپنیاں امریکہ اور دوسرے یورپی اور ایشائی ممالک میں یہ کاروبار کر کے لوگوں کا مال لوٹ کر فرار ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں بھی ورلڈ ٹریڈنگ نیٹ سکیم، گولڈن کی انٹرنیشنل، شینل کمپنی، بزناس اور ان جیسی دوسری بہت سی کمپنیاں لوگوں کا مال لوٹ کر بھاگ چکی ہیں۔ اور ان کمپنیوں کے اصل مالکان وہ غیر ملکی افراد خصوصاً یہودو نصاریٰ ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا غیر مسلموں کی بنائی گئی سکیمیں اور منصوبے مسلمانوں کی خوشحالی کے لیے بنائے جاتے ہیں؟ اگر کسی کو اس بارے میں کوئی خوش فہمی ہے تو وہ ان پروگراموں کا حشر دیکھ لیں جو مغربی اداروں نے ہماری خوشحالی کے لیے بنائے ان کے نتیجے میں آج پاکستان چالیس ارب ڈالر سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے:
{ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لااَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لااَا یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْن}۔(آل عمران:۱۱۸)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے سوا کسی کو دلی دوست نہ بنائو۔ وہ تمہیں کسی طرح نقصان پہچانے میں کمی نہیں کرتے وہ ہر ایسی چیز کو پسند کرتے ہیں جس سے تم مصیبت میں پڑو۔ ان کی شدید دشمنی تو ان کے موہنوں سے ظاہر ہو چکی ہے۔ اور جو کچھ ان کے سینے چھپا رہے ہیں وہ زیادہ بڑا ہے بے شک ہم نے تمہارے لیے آیات کھول پر بیان کر دی ہیں اگر تم سمجھتے ہو۔‘‘
لطف کی بات یہ ہے کہ امریکہ جن کے ہاں حلال و حرام کی تمیز کا کوئی سسٹم ہی نہیں۔وہ بھی اپنی خالص مادہ پرستی اور اقتصادی نظر سے ایسی کمپنیوں سے اپنے عوام کو بچنے کی ترغیب دے چکا ہے۔ امریکی وزارتِ تجارت کا ایک بیان انٹر نیٹ سے اس کی اصل کاپی اور ترجمہ کے ساتھ حاضر ہے۔
ممبر سازی کرنے والی کمپنیوں سے بچنے کی ھدایات
1 کسی بھی ایسے منصوبہ سے بچیں جو آپ کو نئے تقسیم کنندہ (ایجنٹ، ڈسٹی بیوٹر) بھرتی کرنے کے لیے کمیشن وغیرہ کی پیش کش کرتا ہے۔
2 ایسے منصوبوںسے ہوشیار رہیں جو آپ سے مہنگی مصنوعات پر رقم خرچ کرنے کا مطالبہ کریں۔
3 ایسے اعلانات سے بھی محتاط رہیں جو آپ کو کوئی چیز فروخت کئے بغیر صرف نئے ارکان بھرتی کرنے پر راغب کریں۔
4 معجزاتی منصوعات کے متعلق بڑے منافع جات یا دعوئوں سے متعلق وعدوں سے خبر دار رہیں۔
5 ایسے حوالہ جات سے بچیں جو دھوکہ بھی ہو سکتے ہیں۔
6 بہت زیادہ دبائو والی صورتحال میں کبھی بھی رقم ادا نہ کریں اور نہ ہی کسی معاہدہ پر دستخط کریں۔
7 ہر طرح کی پیشکش کی اپنے مقامی بہتر کاروبار کے دفتر یا حکومتی وکیل سے پڑتال کر وا لیں۔

Prime Minister’s Youth Business Loan


Sodi lon

Image

Previous Older Entries

ماہانہ فہرست

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

QURAN ACADEMY ISLAMABAD

The aim of Quran Academy Islamabad is to disseminate and propagate the Knowledge and Wisdom of The Holy Qur’an on a vast scale and at highest intellectual level so as to achieve the revitalization of Faith among the Muslims.

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

وائس آف پاکستان ۔ نوائے درویش

والعصر سے والناس کی تفسیر لکھوں گا

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

Nukta313

نکتہ

Online Free Books

Urdu & English Islamic Ebooks Library | PDF & Audio Format | Online Quran institute | Learn Online Quran from Qualified Tutor | e quran academy & school

SCHOOL OF QURAN ONLINE

We Teach All Over The World Almost all islamic Subjects Online. Specially Quran Reading, Tajveed, Memorization، Qur'an Translation

%d bloggers like this: