عمر کے چالیس سالوں میں علم وفکر کے ارتقائی ادوار


Read Online

ماہنامہ بینات میں شائع ہونے والا اہم مضمون

عمر کے چالیس سالوں میں علم وفکر کے ارتقائی ادوار

نکتہ

Download

Monthly Bayyinat

Advertisements

قرآن کے حقوق اور ہمارا طرز عمل


قرآن کے حقوق اور ہمارا طرز عمل

سید عبدالوہاب شیرازی

Read Online

quran-k-huqooq-by-syed-abdulwahab-sherazi-5

Download

نکتہ کالم


www.nukta313.blogspot.com

nukta-kalam

اسلامی تحریکوں کے کارکن


میری یہ تحریر ان لوگوں کے لئے ہے جو دینی اور مذہبی جماعتوں یا اسلامی تحریکوں سے وابستہ ہیں۔
عامر: تبلیغی جماعت دین کا بہت بڑا کام کررہی ہے ، وہ جو کام کررہی ہے کوئی جماعت نہیں کررہی۔
جاوید: مجھے آپ کی اس بات سے باالکل اتفاق نہیں کیونکہ تبلیغی جماعت فلاں فلاں کام نہیں کرتی، وہ دین کی پوری فکر لوگوں کو نہیں دیتی، وہ تو بس میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں۔دین کا بہت بڑا حصہ ان کا موضوع ہی نہیں اور نہ ہی وہ اس طرف آرہی ہے۔
عامر: بھائی آپ کو آدھا گلاس خالی ہی دکھتا ہے، آدھا بھرا ہوا کیوں نہیں دکھتا۔ آدھا گلاس خالی ہی دکھنا منفی سوچ ہے، آپ اس منفی سوچ سے باہر نکلیں اور مثبت سوچیں۔
islami-tihreekat-nuktaجاوید: میں یہ کہہ رہا…………….
عامر: ایک منٹ مجھے بات مکمل کرنے دیں اب مجھے تھوڑا سا بولنے دیں۔ جس طرح آپ سوچ رہے ہیں کہ تبلیغی جماعت یا آپ کی جماعت کے علاوہ کوئی بھی دوسری جماعت فلاں فلاںکام نہیں کررہی یہی اعتراض آپ پر بھی ہوسکتا ہے کہ آپ بھی تو دین کے سارے شعبوں میں کام نہیں کررہے۔ آپ نے بھی ایک ہی شعبے کو اختیار کیا ہوا ہے اور بیسیوں سال گزر گئے صرف وہی ایک کام کرتے جارہے ہیں۔
دیکھیں ہمارے معاشرے میں چوڑے چمار بھی ہیں، کیا وہ انسان نہیں، کیا وہ کتے بلیاں ہیں؟ کیا ان کا حق نہیں کہ وہ بھی اللہ رسول کی طرف آئیں، عمل کریں اور جنت کے مستحق ٹھہریں۔ ان کا صرف اتنا ہی قصور ہے کہ ان کا دادا یہ کام کرتا تھا، پھر باپ کرتا تھا اور اب وہ بھی یہی کام کررہے ہیں ان کی یہی ساری دنیا ہے، انہیں کون جاکر بتائے گا کہ بھائی یہی ساری زندگی نہیں، یہ آپ کا فن یہ ذریعہ روزگار ہے اصل زندگی کچھ اور ہے۔ تبلیغی جماعت کے علاوہ کون سی جماعت ہے جو معاشرے کے ایسے نچلے اور پسے ہوئے طبقات کو احساس ذمہ داری دلاتی ہے۔ آپ غور کریں کبھی آپ یا آپ کی جماعت کا کوئی وفد ایسے لوگوں سے ملا؟ ان کو دعوت دین دی؟ یا کم از کم اپنی میٹنگ میں ہی ان کا تذکرہ کیا؟ ۔ یقینانہیں۔ ہاں جب گٹر بند ہوا ہوگا تو لازما فون کرکے بلایا ہوگا اور پھر سو پچاس دے کر فارغ کردیا ہوگا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تبلیغی جماعت کے اس مثبت کام پرنظر رکھیں اور خود بھی مثبت سوچیں۔
کیا آپ کی جماعت نے کبھی اس بارے مشورہ کیا کہ ہمارے معاشرے میں ہزاروں کی تعداد میں ہیجڑے بھی ہیں، وہ بھی انسان ہیں اور اللہ کے احکامات کے اسی طرح مکلف ہیں جس طرح 22گریڈ کا افسریا اونچے سٹیٹس ،مرسڈیزگاڑی،کاٹن کے سفید سوٹ میں ملبوس شخص۔؟ کتنے ہیجڑوں کو آپ راہ راست پر لائے؟ آپ کی جماعت کے رجسٹر ممبران میں کتنے ہیجڑے ہیں جو آپ کی تحریک سے وابستہ ہیں۔؟ کیا ان کا حق نہیں کہ وہ بھی اللہ کے دین کا وہ کام کریں جو آپ کرکے شاید اللہ پر احسان کررہے ہیں۔ تبلیغی جماعت نے ہزاروں ہیجڑوں پر محنت کی انہیں ٹھیک کیا اور اب وہ اپنے غلط کام چھوڑ کر ایک عام مسلمان کی طرح زندگی بھی گزار رہے ہیں اور اپنے باقی ساتھیوں پر بھی محنت کررہے ہیں۔
کیا کبھی آپ نے یاآپ کی جماعت کے وفد نے لاہور اور ملتان کی ہیرا منڈی کا دورہ کیا۔؟ وہاں کی عورتوں سے ملاقات کی۔؟ آپ کی نظر میں تو وہ بازاری عورت ہے، اس کا کیا کام کہ وہ توبہ کرے، وہ غلط کام چھوڑے، وہ نماز پڑھے، وہ پردہ کرے؟ ۔ ہاں آپ نے دو چار کتبے ضرور لکھے ہوں گے فحاشی بندکرو، اخباری بیان اور جلسے کی تقریر میں ضرور انہیں بُرا بھلا کہا ہوگا۔ ان کا صرف اتنا قصور ہے کہ سینکڑوں سال سے وہ اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ ان کے آباءواجداد سے نسل در نسل یہی ان کا پیشہ ہے۔انہیں کسی نے بتایا ہی نہیں کہ زندگی صرف یہی نہیں بلکہ اصل زندگی کچھ اور ہے۔ جی ہاں تبلیغی جماعت نے بے شمار طوائفوں کے سر پر شفقت کی چادر رکھی، ان کو یہ احساس دلایاکہ یہ اصل زندگی نہیں، ان سے توبہ کروائی، انہیں قرآن پڑھنے پر لگایا، انہیں نمازی بنایا، انہیں باعزت زندگی عطاءکی، ان کی شادیاں کروا کررخصت کیا۔
کیا آپ گونگوں ،بہروں اور نابینوں کو انسان سمجھتے ہیں یا نہیں۔؟ کیا وہ صرف اس لئے ہیں کہ ان کے شناختی کارڈ پر معذوری کا نشان ڈال دیا جائے اور معذوروں کی کیٹگری میں شمار کیا جائے۔؟ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بھی پیدائشی نابینا تھے، لیکن صحابہ نے ان سے یہ کام لیا کہ جنگوں میں لشکر کا علم ان کے ہاتھ میں پکڑا ہوتا تھا اور قادسیہ کی جنگ میںمیدان جنگ میں شہادت کا رتبہ پایا۔ آپ کی جماعت میں کتنے نابینا، کتنے گونگے وہ دین کا کام کررہے ہیںجو آپ نے امیروں، اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے سنبھال کررکھا ہوا ہے۔ تبلیغی جماعت میں سینکڑوں نابینا، گونگے بہرے دین کی محنت کررہے ہیں، ان کا الگ اجتماع ہوتا ہے، ان کی جماعتیں نکلتی ہیں، جو دوسرے گونگوں کو اپنی مخصوص اشاروں والی زبان میں دین سکھاتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد جو کروڑوں میں ہے، جو اَن پڑھ ہیں، یا انتہائی کم تعلیم یافتہ ہیں، مزدور ہیں، جو اپنی مادری زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں سمجھتے، ہمارے نزدیک ان کی حیثیت بس یہی ہے کہ ہم سے پیسے لے کر ہمارے کام کریں، ہماری گاڑی صاف کریں، ہمارے پودوں کو پانی لگائیں، ہمارا فرش دھوئیں، ہمارے دروازے پر پہرہ دیں اورہمارے بچوں کو بیکن ہاوس چھوڑ آئیں۔لیکن ان لوگوں کے دل میں ایمانی چنگاری جب بھڑکتی ہے تو پھر یہ آپ کے گھر کا سارا کام نمٹا کر عصر کے بعد محلے کی مسجد میں پندرہ بیس منٹ تعلیم وگشت کی مجلس میں شرکت کرتے ہیں،سورة اخلاص اور التحیات کے تلفظ درست کرتے ہیں، کیونکہ وہاں پر ان کی ذہنی قابلیت کے برابر دین کی بات سمجھائی جاتی ہے، انہیں عزت دی جاتی ہے۔ جبکہ عین اسی وقت آپ شیشے کے محل میں، سرخ کالینوںپر، سرینا ہوٹل کے بڑے ہال میں کیمروں کے جھرمٹ میں تقریر کررہے ہوتے ہیں کہ اسلامی نظام ایسے ایسے آئے گا، پھر تکبیر کے نعرے لگتے ہیں، ٹی وی پر خبر چلتی ہے اور آپ اپنے بیڈ پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے اپنے بچوں کو کہہ رہے ہوتے ہیںکہ ذرا دوسرا چینل لگاو انہوں نے خبر دی یا نہیں۔؟
جی ہاں تبلیغی جماعت یہ سب کررہی ہے۔ وہ جو نہیں کررہی تو وہ آپ کررہے ہیں ، یااگر نہیں کررہے تو کرناشروع کردیں۔تبلیغی جماعت کبھی آپ سے یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ آپ اپنا کام چھوڑ کر ان کے ساتھ چلیں۔
یہاں تک دین کا صرف ایک شعبہ بیان ہوا ہے۔ دین کا ایک شعبہ دین اسلام کی علمی میراث بھی ہے جو سینکڑوں سال سے سینہ بہ سینہ اور کتابوں کی شکل میں منتقل ہوتی آرہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ بندوں کو اس کام پر لگایا ہوا ہے، یہ لوگ دنیا جہاں کی رنگینیوں سے بے خبریہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان کا اپنا طریقہ ہے، وہ اپنے کام کو بحسن خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی تنخواہوں میں اضافے کے لئے احتجاج نہیں کیا، آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ آج ظہر کی نماز نہیں ہوگی کیوں کہ ہڑتال ہے۔ وہ ینگ ڈاکٹرز کی طرح تڑپتے لاشے چھوڑ کر او پی ڈی بند نہیں کرتے۔ وہ اگر کسی دینی مطالبے کے لئے ہڑتال کرتے بھی ہیں تو ان کے کام اسی طرح چل رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہر سال ایک لاکھ حافظ قرآن پیدا کرتے ہیں، ہر سال تیس سے چالیس ہزار کے لگ بھگ علماءپیدا کررہے ہیںجن میں60فیصد خواتین اور40فیصد مرد ہوتے ہیں۔
دین کا ایک شعبہ سیاست بھی ہے۔ پھر سیاست کے مختلف پہلو ہیں۔ موجودہ دور میں جب کہ دین مغلوب ہے، مسلمان اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کفر کے سامنے ایک طرف دیوار سے لگ جائیں۔ چنانچہ کچھ لوگ سفارتکاری کرتے ہوئے ان طاغوتوں سے اٹھتے بیٹھتے ہیں ، مسلمانوں اور ان کی تحریکوں کے لئے بیچ بچاو کرانے میں لگے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ جتنا ممکن ہو ان کو غلط کاموں سے روکنے کی حتی المقدور کوششیں کررہے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ان ہی کفریہ طاغوتوں کے کھلے چھوڑے راستوں پر دینی محنت کررہے ہیں۔
جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان تمام سے ہٹ کر لوگوں کو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے انقلابی مراحل سے گزار کر جماعت تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بعثت قرآن میں تین بار ایک ہی الفاظ کے ساتھ یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن اور شریعت دے کر دین اسلام غالب کرنے کے لئے بھیجا اور آپ نے اپنی زندگی میں اسے جزیرة العرب کی حد تک غالب کرکے دکھایا، پھر صحابہ کرام نے بائیس لاکھ مربع میل تک غالب کیا اور پھر آہستہ آہستہ مغلوب ہوتے ہوتے مکمل مغلوب ہوگیا۔ اس لئے بحیثیت مسلمان غلبہ دین بھی بہت بڑا فریضہ ہے جسے سیکھنا،سکھانا،سمجھنا،سمجھانا اور اس کے لئے جدجہد کرنا بھی فرض ہے۔
تبلیغی جماعت سمیت کوئی بھی جماعت،تحریک یاتنظیم ، دین کے سارے شعبوں میں کام نہیں کررہیں۔ اور نہ ہی کوئی جماعت دین کے سارے شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ قدرتی طور پر خدائی نظام ہے کہ دین کے سارے شعبوں میں کام ہورہا ہے، ہرمیدان آباد ہے ۔ یہ مختلف موتی ہیں، جب اللہ کو منظور ہوگا یہ سب ایک لڑی میں پرو دیے جائیں گے۔ اہل حق کی کسی بھی جماعت میں حق اس طرح بند نہیں کہ کہیں اور موجود نہ ہو۔ اس لئے اللہ نے آپ کو جو صلاحیت دی ہے آپ اس صلاحیت کے مطابق ان تمام اسلامی تحریکوں،جماعتوں اور تنظیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں، اس کے ساتھ کام کریں اور باقی تحریکوں کے کام کی قدر دانی کریں، حتی المقدور ان کے ساتھ بھی تعاون کریں، خاص طور پر تبلیغی جماعت جو اسلام کی نرسری ہے، اسی نرسری سے پودے مختلف باغوں میں جاتے ہیں اور پھر پھل دیتے ہیں۔بس بات اتنی سی ہے جو اس نرسری کے خلاف جتنی نفرت پھیلاتاہے اسے اتنے ہی کم پودے یہاں سے ملتے ہیں۔ جن جن باغبانوں کا اس نرسری سے اچھے تعلقات ہیں انہیں اتنے ہی زیادہ پودے اپنے باغ کے لئے یہاں سے مل جاتے ہیں۔
Syed Abdulwahhab Sherazi
#nukta #نکتہ #اسلامی #تحریک

کارو کاری یا طور طورہ


Read Online

karo kari ya tor tora ya wanni

Download

کارو کاری یا طور طورہ

(سید عبدالوہاب شیرازی)

ہرسال دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں ہزاروں عورتوں کو ان ہی کے عزیز و اقارب کی جانب سے خاندان کی عزت و آبرو کے تحفظ کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ قاتلوں کا خیال ہوتا ہے کہ ان کی شناخت خاندان کے نام و شہرت سے جڑی ہے۔چنانچہ جب بھی خاندان کو بدنامی کا اندیشہ ہوتا ہے، رشتے دار قاتل بن جاتے ہیں۔ وہ قتل ہی کو صورت حال کا واحد حل تصور کرتے ہیں۔ یہ رسم پاکستان،بھارت سمیت عرب ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح غیر مسلم ممالک، یورپی ممالک اور امریکا میں بھی ہر سال ہزاروں عورتوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ صرف امریکا میں ہرسال تین ہزار عورتیں گرل فرینڈ،بوائے فرینڈ کے چکر میں قتل ہوجاتی ہیں۔پاکستان کے چاروں صوبوں یہ رسم پائی جاتی ہے۔ یہاں کے قبائل کے خیال میں اس طرح کا قتل نہ صرف جائز بلکہ اچھا عمل سمجھا جاتا ہے۔

سیاہ کاری ،کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کرنے کا دستور بہت قدیم ہے۔مذکورہ نام ایک دوسرے کے مترادف ہیں جو مختلف علاقوں میں بولی جانےوالی زبانوں کے مطابق بنائے گئے ہیں۔بلوچستان میں اسے ”سیاہ کاری“ کہا جاتاہے جس کا معنی بدکاری ،گنہگار ہے۔ سندھ میں اسے ”کاروکاری“ کہا جاتا ہے کاروکامطلب سیاہ مرد اور کاری کا مطلب سیاہ عورت ہے۔ پنجاب میں” کالا کالی“ اور خیبرپختون خواہ میں ”طور طورہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ کالے رنگ کے مفہوم کی حامل یہ اصطلاحات زناکاری اوراس کے مرتکب ٹھہرائے گئے افراد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔سیاہ اس شخص کو کہتے ہیں جس پر نکا ح کے بغیر جنسی تعلق رکھنے کا الزام لگایا گیا ہو۔ یا اپنے نکاح والے شوہر کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق رکھنے والی عورت کو سیاہ یا سیاہ کار کہتے ہیں۔اور ایسے مجرم کو قتل کرنے کے عمل” کو قتلِ غیرت “ اور انگریزی میں ”Honour Killings“کہتے ہیں۔کاروکاری اور قتل غیرت میں معمولی سا فرق بھی ہے۔ وہ یہ کہ کاروکاری میں قبیلے یا خاندان کے بڑے جمع ہوکر ایک جرگے کی صورت میں قتل کا فیصلہ سناتے ہیں اور پھر قتل کیا جاتا ہے۔ جبکہ قتل غیرت میں خاندان کا کوئی فرد از خود غیرت میں آکر بغیر کسی جرگے کے قتل کردیتا ہے۔

یہاں یہ نکتہ بتانا بھی نہایت ضروری ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی کوئی قتل ہوتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا اور اس کے صحافی قتل کے فریق قبائلیوں،ودیڑوں،اور اس رسم کو اپنی ہزاروں سال پرانی تہذیب کہنے والوں کو اپنے پروگرام میں مدعو نہیں کرتے بلکہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے فورا اپنے پروگرام میں کسی ایسے مولوی کو بلا لیا جاتا ہے، جس بیچارے کو شاید کاروکاری کا معنی بھی نہ آتا ہو۔ سوچنے کی بات ہے قتل بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے میں قبائلی جرگے کے حکم پر ہوا اور میڈیا کے کرائم رپورٹر تفتیش راولپنڈی کے کسی محلے کے امام مسجد سے کررہے ہوتے ہیں۔ بات تو تب بنے کہ یہ رپورٹ اور اینکر ذرا بلوچستان کے اس قبیلے میں جاکر ان سے پوچھیں کہ قتل کیوں کیا؟تمہارے پاس قتل کا کیا جواز ہے؟پھر پتا چلے کہ اینکر میں کتنا دم خم ہے۔ ساری بھڑاس بیچارے بیوقوف مولوی پر نکال لی جاتی ہے جو ٹی وی پر آنے کے شوق میں ایسے پروگراموں میں پہنچ جاتا ہے۔

اس رسم کا غلط استعمال بھی بہت عام ہے۔ لوگ اپنے کسی دشمن کو تنہا پا کر مار دیتے ہیں اور پھر اپنے ہی خاندان کی کسی عورت کو جو بڑھیا یا بچی بھی ہو سکتی ہے، کو مار کر دشمن کی لاش کے نزدیک ڈال دیتے ہیں اور بیان دیتے تھے کہ انہیں غلط کام کرتے دیکھا گیا تھا اس لیے غیرت میں آ کران دونوں کو مار دیا گیا۔ عورتوں کے قتل کے جتنے واقعات ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ ہر قتل، قتلِ غیرت ہی ہوکبھی خاندانی دشمنی،تقسیم میراث وغیرہ دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں، لیکن ہمارے ملک میں موجود مغرب کی پروردہ ”این جی اوز“ ہر قتل کو قتل غیرت قرار دینے پر اصرار کرتی ہیں، اور پھر اس سانحہ کو خوب بیچا جاتا اور اس کی آڑ میں مغرب سے فنڈ وصول کیے جاتے ہیں۔پھر ہمارے معاشرے میں جتنے قتل ہوتے ہیں ان کا اگر موازنہ کیا جائے تو مردوں کے قتل کے مقابلے میں عورتوں کا قتل نصف سے بھی کم ہے۔مرد بھی آئے روز غیرت کے نام پر قتل ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کے قتل کو قتل غیرت شمار نہیں کیا جاتا، چونکہ مردوں کے قتل پر فنڈ نہیں ملتے اس لئے مردوں کے قتل کو کوئی اور رُخ دے دیا جاتا ہے۔ مثلا مردوں کی اچھی خاصی تعداد اس لئے قتل ہوتی ہے کہ انہوں نے کسی عورت یا لڑکی کو چھڑا تھا اور پھر عورت کے رشتہ دار نے غیرت میں آکر اس چھیڑنے والے لڑکے کو قتل کردیا۔ایسے قتل آئے روز ہوتے رہتے ہیں، خصوصا قبائلی علاقوں میں تو 80فیصد مرد ہی غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں لیکن این جی اوز انہیں قتل غیرت نہیں شمار کرتیں۔ایسے کتنے ہی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں کہ قتل ہونے والا مرد کسی خاندانی یا ذاتی دشمنی میں قتل کیا گیا لیکن اصل بات پر پردہ ڈالنے کے لئے قاتل نے اسی لمحے اپنی بیوہ بہن جو بھائی کے گھر میں رہتی تھی کو قتل کرکے اس کی لاش مقتول مرد کی لاش کے ساتھ پھینک دی۔

ابھی ایک ماہ قبل مانسہرہ میں میرے گاوں کے ساتھ والے ایک گاوں میں شادی کے تین چار دن بعد شوہر اور اس کی والدہ نے نئی نویلی دلہن کو صرف چار پانچ ہزار روپے کے چکر میں رات کے وقت گلا دبا کر قتل کیا اور پھر اس کی لاش قریب فصلوں میں پھینک کر پاس کھانے پینے کی چیزیں بھی رکھ دیں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ یہاں اپنے آشنا کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی۔لیکن گرفتاری کے فورا بعد شوہر نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ میں نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر قتل کیا ہے۔

غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت جامع فرمان احادیث میں موجود ہے:جیسا کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی پر زنا کا الزام اس وقت ثابت ہوتا ہے جب تک چار ایسے گواہ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے زنا ہوتے دیکھا گواہی نہ دے دیں۔چنانچہ اس اسلامی حکم کے تناظر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے سوال کیا یارسول اللہ اگر ہم اپنی بیوی سے کسی کو زنا کرتے دیکھیں تو کیا ایسے موقع پر ہم گواہ ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوں؟تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تعجب کرتے ہو سعد کی غیرت پر، مگر میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔یعنی جس اللہ نے یہ قانون بنایا ہے وہ زیادہ غیرت مند ہے لہٰذا اب گواہی کے بغیر کسی پر زنا کو ثابت کردینا اپنے آپ کو اللہ سے زیادہ غیرت مند بنانے کے مترادف ہے۔ غیرت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جذبات آکر انسانی جان ضائع کردے۔

غیرت کے نام پر قتل کے خاتمے کے لئے چند ضروری اقدامات کرلیے جائیں تو یہ قبیح رسم ختم ہوسکتی ہے۔

(۱) اولاد کے ولی اپنی اولاد پر ہمیشہ نظر رکھیں کیونکہ قتل تو ایک لمحے میں اچانک ہوجاتا ہے لیکن قتل کا سبب یعنی زنا تو اچانک نہیں ہوتا اس کے پیچھے طویل دوستیاں آشنایاں،بے حجابی،مخلوط ماحول یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں، جب ان چیزوں کا سدد باب نہیں کیا جاتا تو پھر نتیجہ قتل کی صورت میں نکلتا ہے۔

(۲) پاکستان کے قوانین میں بھی کئی سقم پائے جاتے ہیں جو اس قبیح رسم کے ختم ہونے میں رکاوٹ ہیں، مثلا ایسا قتل ، قتلِ عمد نہیں سمجھا جاتا بلکہ قتلِ خطا شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے قتل کا مقدمہ خاندان ہی کے کسی فرد کی مدعیت میں درج کیا جاتا ہے اور پھر وہی مدعی(مثلا باپ) مقتول (مثلا بیٹی)کا وارث ہونے کے ناطے قاتل(مثلا بیٹے) کو معاف کردیتا ہے۔ اگر ایسا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا جائے تو معافی کا سلسلہ ختم ہوسکتا ہے جو اس رسم کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا۔

(۳)کاروکاری کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے قبائلی معاشرے میںآج 2016 میں بھی عورت کو اپنی ملکیت اور جائیداد سمجھا جاتا ہے چنانچہ اس کے خلاف شعور کا اجاگر کیا جائے۔

(۴) یہ شعور بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ قانون کو نافذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، کوئی شخص خود قانون کو نافذ نہیں کرسکتا۔ اس سلسلے میں مذکورہ بالا حدیث ہماری رہنمائی کرتی ہے۔

Polygamy


Read Online

poly

Download

سیاسی فرقہ واریت


Firqa Wariat

Image

Monthly Nukta Feb2016


Read Online

02-2016 j1-s3 Monthly Nukta

Download

Ameer Honay ka Tareeqa


Read Online

02-01-2016 Ameer Honay ka Tareeqa

Download

ماہنامہ نکتہ جنوری2016


Read Online

 Download

Previous Older Entries

ماہانہ فہرست

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

QURAN ACADEMY ISLAMABAD

The aim of Quran Academy Islamabad is to disseminate and propagate the Knowledge and Wisdom of The Holy Qur’an on a vast scale and at highest intellectual level so as to achieve the revitalization of Faith among the Muslims.

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

وائس آف پاکستان ۔ نوائے درویش

والعصر سے والناس کی تفسیر لکھوں گا

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

Nukta313

نکتہ

Online Free Books

Urdu & English Islamic Ebooks Library | PDF & Audio Format | Online Quran institute | Learn Online Quran from Qualified Tutor | e quran academy & school

SCHOOL OF QURAN ONLINE

We Teach All Over The World Almost all islamic Subjects Online. Specially Quran Reading, Tajveed, Memorization، Qur'an Translation

%d bloggers like this: